الْإِصْلَاحُ
یہ آیت ہمیں برابر کا بدلہ لینے سے آگے بڑھ کر ایسی معافی کی دعوت دیتی ہے جو اصلاح کرے۔
فَمَنۡ عَفَا وَأَصۡلَحَ فَأَجۡرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِ
پھر جو معاف کر دے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔
قرآن, Ash-Shura 42:40
آیت پہلے زیادتی کے مناسب جواب دینے کے حق کو تسلیم کرتی ہے۔ پھر ایک بلند تر راستہ دکھاتی ہے: معاف کرنا اور اصلاح کرنا۔ «اصلاح» کا لفظ معافی کو نیکی کے ایک عمل سے جوڑتا ہے، جیسے تعلق بحال کرنا یا نقصان درست کرنا۔ روزمرہ زندگی میں اختلاف کے بعد اس کا مطلب صرف رنجش چھوڑنا نہیں بلکہ تعلق دوبارہ بنانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھانا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ راستہ اللہ کے سپرد ہے جو اس کی قدر جانتا ہے۔
آج اگر کسی نے تمہیں دکھ پہنچایا ہے تو صلح کی طرف ایک قدم بڑھاؤ: اطمینان بخش پیغام بھیجو یا تعلق درست کرنے کے لیے ملنے کی تجویز دو۔
|