الْعَفْوُ
یہ آیت ہمیں دل آزاری کے بعد بھی سخاوت اور معافی کی دعوت دیتی ہے۔
وَلۡيَعۡفُواْ وَلۡيَصۡفَحُوٓاْۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغۡفِرَ ٱللَّهُ لَكُمۡۚ
انہیں چاہیے کہ معاف کریں اور درگزر کریں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟
قرآن, An-Nur 24:22
آیت خوش حال لوگوں سے کہتی ہے کہ وہ اپنے رشتہ داروں، غریبوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کی مدد بند کرنے کی قسم نہ کھائیں۔ پھر ان سے معاف کرنے اور درگزر کرنے کو کہتی ہے، اور یاد دلاتی ہے کہ وہ خود بھی اللہ کی معافی پانا چاہتے ہیں۔ کسی عام اختلاف میں معافی کی ابتدا اس بات سے ہو سکتی ہے کہ انسان رنجش بھری بات یا برائی کا بدلہ برائی سے دینے کی خواہش چھوڑ دے۔ آیت یہ نہیں کہتی کہ جو کچھ ہوا اس کا انکار کیا جائے؛ Qalima کا خلاصہ یہاں معافی اور درگزر کی اس واضح دعوت تک محدود رہتا ہے۔
آج کسی معمولی اختلاف کے بارے میں سوچو اور ایسی رنجش بھری بات دہرانے سے گریز کرو جو تم دہرا سکتے تھے۔
|