التَّقْوَى
جب یوسف کے بھائی انہیں پہچان لیتے ہیں تو یوسف اللہ سے ڈرنے، صبر اور نیکوکاروں کے اجر کو آپس میں جوڑتے ہیں۔
إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصۡبِرۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
بے شک جو تقویٰ اختیار کرے اور صبر کرے تو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
قرآن, Yusuf 12:90
یوسف اپنے بھائیوں کو اپنی شناخت بتاتے ہیں اور اللہ کا احسان یاد دلاتے ہیں۔ پھر ایک اصول بیان کرتے ہیں: جو تقویٰ اختیار کرے اور صبر کرے، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ آیت اس اجر کی صورت یا وقت بیان نہیں کرتی۔ ہماری روزمرہ زندگی میں تقویٰ ہمیں اللہ کی طرف متوجہ رہنے کی دعوت دیتا ہے، جبکہ صبر ہمیں مدت تک ثابت قدم رہنے میں مدد دیتا ہے۔ آیت ان دونوں رویوں کو یکجا کرتی ہے، صبر کو محض غیر فعال انتظار نہیں بناتی۔
آج دو منٹ نکالو: ایک ایسی صورت حال کا نام لو جو تمہارے صبر کو آزماتی ہے اور ایک درست جواب لکھو جس پر تم قائم رہ سکتے ہو۔
|