يَقِين
یہ آیت ان لوگوں کو بیان کرتی ہے جنہیں اپنے رب سے ملاقات اور اس کی طرف لوٹنے کا یقین ہے۔
ٱلَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَٰقُواْ رَبِّهِمۡ وَأَنَّهُمۡ إِلَيۡهِ رَٰجِعُونَ
جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
قرآن, Al-Baqara 2:46
پچھلی آیت صبر اور نماز سے مدد مانگنے کی ہدایت دیتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ نماز عاجزی والوں کے سوا سب پر بھاری ہے۔ یہ آیت ان عاجز لوگوں کی تعریف کرتی ہے: انہیں اپنے رب سے ملنے اور اس کی طرف لوٹنے کا یقین ہے۔ یہ یقین کوششوں کو آسان کر دیتا ہے۔ جب ہمیں معلوم ہو کہ اللہ کی طرف لوٹنا ہے تو صبر اور نماز سہل ہو جاتے ہیں۔ آج ہم اپنی واپسی کو یاد کر کے اس یقین کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔
اگلی نماز سے پہلے ایک منٹ رک کر یاد کرو کہ تم اپنے رب سے ملو گے، پھر اسی یقین کے ساتھ نماز پڑھو۔
|