إِسْلَام
یہ آیت نجات کی راہ بتاتی ہے: پوری طرح اللہ کی طرف متوجہ ہو کر نیکی کرنا۔
مَنۡ أَسۡلَمَ وَجۡهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحۡسِنٞ فَلَهُۥٓ أَجۡرُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ
جس نے اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کر دیا اور وہ نیکوکار بھی ہے تو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے، نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
قرآن, Al-Baqara 2:112
یہ آیت ان لوگوں کو جواب دیتی ہے جو سمجھتے تھے کہ جنت کسی ایک گروہ کے لیے مخصوص ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ اصل بات اللہ کے سامنے جھکنا اور نیکی کرنا ہے۔ بدلہ اسی کے پاس ہے، اور جو ایسا کرتے ہیں وہ خوف اور غم سے آزاد رہتے ہیں۔ اپنی روزمرہ زندگی میں ہم ہر کام، حتیٰ کہ سادہ کاموں میں بھی، اللہ کی رضا تلاش کر کے اس پر عمل کر سکتے ہیں۔ اخلاص اور بھلائی سے کیا گیا ہر عمل اہم ہے۔
آج اللہ کو راضی کرنے کی نیت سے کوئی سادہ نیکی کرو، مثلاً کسی کی مدد یا نرمی کی بات۔
|