نَفَقَة
یہ آیت اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو ایسے دانے سے تشبیہ دیتی ہے جو سات بالیاں اگاتا ہے اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں۔
مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنۢبُلَةٖ مِّاْئَةُ حَبَّةٖۗ وَٱللَّهُ يُضَٰعِفُ لِمَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ
جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس سے سات بالیاں اگیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں، اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے، اللہ وسعت والا، علم والا ہے
قرآن, Al-Baqara 2:261
آیت دو مضبوط تصویریں ملاتی ہے: سخاوت اور نشوونما۔ ایک دانہ سات بالیاں دے سکتا ہے اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مخلص خرچ کبھی ضائع نہیں ہوتا بلکہ بہت پھل دیتا ہے۔ ہماری زندگی میں دینا ایسا لگ سکتا ہے جیسے مال کم ہو رہا ہو، مگر آیت ہمیں سخاوت کو سرمایہ کاری سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔ اللہ ہماری نیتوں کو جانتا اور فراوانی عطا کرتا ہے۔
آج کسی ضرورت مند کو تھوڑی رقم یا کوئی چیز دو اور بدلے کی توقع نہ رکھو۔
|