أَنْصَار
جب عیسیٰ نے اللہ کے لیے مددگار چاہے تو حواریوں نے ایمان اور سپردگی سے جواب دیا۔
نَحۡنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَٱشۡهَدۡ بِأَنَّا مُسۡلِمُونَ
ہم اللہ کے مددگار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لائے، اور گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں۔
قرآن, Al-Imran 3:52
اس آیت میں عیسیٰ اپنے اردگرد کفر محسوس کر کے پوچھتے ہیں: اللہ کی راہ میں میرے مددگار کون ہیں؟ حواری اللہ کے مددگار ہونے کا اعلان کر کے جواب دیتے ہیں۔ وہ اس نصرت کو اللہ پر ایمان اور اس کے سامنے سپردگی سے جوڑتے ہیں۔ انصار سے مراد یہاں اللہ کے دین کی حمایت کرنے والے ہیں۔ آج ہم سچے ایمان اور روزمرہ زندگی میں سپردگی کے ذریعے اللہ کے مددگار بن سکتے ہیں۔ بڑے وسائل نہیں بلکہ سیدھی نیت اور سادہ اعمال درکار ہیں۔
آج سپردگی کا ایک چھوٹا عمل کرو: نماز وقت پر پڑھو یا خاموشی سے نیکی کرو اور سوچو کہ اللہ کے دین کی مدد کر رہے ہو۔
|