جَزَاء
یہ آیت ان لوگوں کا اجر بیان کرتی ہے جو توبہ کرتے اور برائی پر اڑے نہیں رہتے۔
أُوْلَـٰٓئِكَ جَزَآؤُهُم مَّغۡفِرَةٞ مِّن رَّبِّهِمۡ وَجَنَّـٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَنِعۡمَ أَجۡرُ ٱلۡعَٰمِلِينَ
انہی کے لیے ان کے رب کی طرف سے بخشش اور ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ نیک عمل کرنے والوں کا اجر کیا ہی اچھا ہے۔
قرآن, Al-Imran 3:136
پچھلی آیت ان لوگوں کا ذکر کرتی ہے جو غلطی کے بعد اللہ کو یاد کرتے، بخشش مانگتے اور اپنی خطا پر اصرار نہیں کرتے۔ یہاں اللہ ان کے لیے شاندار اجر کا وعدہ کرتا ہے: بخشش اور ہمیشہ رہنے والے باغات۔ جزا کا مطلب اجر ہے اور یہ اجر الٰہی رحمت کے شایان ہے۔ یہ متن سکھاتا ہے کہ اللہ کی بخشش بہت وسیع ہے۔ غلطی کے بعد بھی امید باقی رہتی ہے اگر اخلاص سے اس کی طرف لوٹیں۔ آج اس وعدے پر غور کر کے بڑی امید حاصل کر سکتے ہیں۔
آج کسی پچھلی غلطی پر غور کرو اور اجر کے اس وعدے کو یاد کرتے ہوئے اللہ سے خلوص کے ساتھ بخشش مانگو۔
|