لِين
یہ آیت دکھاتی ہے کہ نبی ﷺ کی نرمی نے دلوں کو کیسے جوڑا۔
فَبِمَا رَحۡمَةٖ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمۡۖ وَلَوۡ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ ٱلۡقَلۡبِ لَٱنفَضُّواْ مِنۡ حَوۡلِكَۖ فَٱعۡفُ عَنۡهُمۡ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِۖ فَإِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَوَكِّلِينَ
پس اللہ کی رحمت سے تم ان کے لیے نرم ہو گئے، اور اگر تم سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو وہ تمہارے پاس سے منتشر ہو جاتے، پس انہیں معاف کرو، ان کے لیے مغفرت مانگو اور کاموں میں ان سے مشورہ کرو، پھر جب تم عزم کر لو تو اللہ پر بھروسا کرو
قرآن, Al-Imran 3:159
آیت نرمی کو الٰہی رحمت سے جوڑتی ہے اور بتاتی ہے کہ سختی لوگوں کو دور کر دیتی۔ اس کے بعد معافی، مشورہ اور فیصلہ کرنے کے بعد اللہ پر بھروسا آتا ہے۔ ہماری زندگی میں یہ ترتیب قیمتی ہے: نرم رہو، معاف کرو، مشورہ کرو اور پھر اللہ پر بھروسا کر کے عمل کرو۔ نرمی کمزوری نہیں بلکہ رشتے بچانے والی طاقت ہے۔
آج کسی فیصلے سے پہلے متعلقہ شخص سے نرمی سے مشورہ کرو، پھر اللہ پر بھروسا کرو۔
|