ظُلْم
یہ آیت ہمیں یتیموں پر ظلم سے خبردار کرتی ہے۔
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ أَمۡوَٰلَ ٱلۡيَتَٰمَىٰ ظُلۡمًا إِنَّمَا يَأۡكُلُونَ فِي بُطُونِهِمۡ نَارٗاۖ وَسَيَصۡلَوۡنَ سَعِيرٗا
بے شک جو لوگ یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے
قرآن, An-Nisa 4:10
آیت دو سخت تصویریں پیش کرتی ہے: یتیموں کا مال ناحق کھانا گویا آگ نگلنا ہے اور یہ جہنم کی آگ تک لے جاتا ہے۔ یہ صرف ممانعت نہیں بلکہ اس عمل کی سنگینی کی دل ہلا دینے والی تصویر ہے۔ اپنی زندگی میں یہ ہمیں اپنے معاملات اور باتوں کا جائزہ لینے کی یاد دلاتا ہے۔ عمل سے پہلے پوچھیں: کیا میں دوسروں کے حقوق، خاص طور پر کمزوروں کے، کا احترام کرتا ہوں؟
آج اپنے آس پاس کسی کمزور شخص کو پہچانو اور اس کے حق کی حفاظت کے لیے عملی کام کرو، مثلاً جانچو کہ اسے اس کا حق مل رہا ہے۔
|