عَدْل
یہ آیت ہمارے تعلقات میں انصاف کی دو بنیادی ضرورتیں سکھاتی ہے۔
وَإِذَا حَكَمۡتُم بَيۡنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحۡكُمُواْ بِٱلۡعَدۡلِ
اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو
قرآن, An-Nisa 4:58
اللہ حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو واپس کرو اور لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو۔ یہ دونوں احکام جڑے ہوئے ہیں؛ ہمارے معاملات میں اعتماد اور انصاف کی حفاظت کرتے ہیں۔ آیت یاد دلاتی ہے کہ اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے، اس لیے اخلاص ضروری ہے۔ روزمرہ زندگی میں اس کا مطلب ہے بغیر گواہ کے بھی سونپی ہوئی چیز لوٹانا اور قریبی لوگوں کے درمیان بھی فیصلوں میں انصاف کرنا۔ انصاف اختیار نہیں بلکہ اخلاقی فرض ہے۔
آج ادھار لی ہوئی چیز یا سونپی گئی معلومات مالک کو واپس کرو اور کسی دوسرے سے متعلق فیصلے میں غیر جانب دار رہو۔
|