تَسْلِيم
یہ آیت سکھاتی ہے کہ حقیقی ایمان کا مطلب کیا ہے۔
وَيُسَلِّمُواْ تَسۡلِيمٗا
اور پوری طرح تسلیم ہو جائیں۔
قرآن, An-Nisa 4:65
اللہ اپنی ذات کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ایمان مکمل نہیں ہوتا جب تک لوگ اپنے اختلافات میں نبی ﷺ کو حَکم نہ مانیں، دل میں اس کے فیصلے پر تنگی نہ پائیں اور پوری طرح تسلیم نہ ہوں۔ پچھلی آیت بتاتی ہے کہ رسول اطاعت کے لیے بھیجے گئے؛ یہاں دل اور عمل دونوں کا سپرد ہونا مطلوب ہے۔ ہماری زندگی میں اس کا مطلب قرآن و سنت کی تعلیمات کو قبول کرنا ہے، چاہے وہ خواہش کے خلاف ہوں۔ اس کے لیے اللہ اور اس کے رسول پر بھروسا اور دل کا اطمینان چاہیے۔
آج ایسی تعلیم چنو جس پر چلنے میں تردد ہے، اور دل کو سکون دے کر اس کے سامنے جھکنے کا فیصلہ کرو۔
|