تَوَكُّل
منافقت کے سامنے نبی ﷺ کو واضح حکم ملتا ہے: ان سے منہ موڑو اور اللہ پر بھروسا کرو۔ وہی کافی کارساز ہے اور ہمارے دل کو سکون دیتا ہے۔
فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا
«پس ان سے منہ موڑو اور اللہ پر بھروسا کرو، اور اللہ کارساز ہونے کے لیے کافی ہے۔»
قرآن, An-Nisa 4:81
یہ آیت ان لوگوں کا ذکر کرتی ہے جو اطاعت کا وعدہ کرتے ہیں، پھر جاتے ہی اس کے خلاف سازش کرتے ہیں۔ اللہ ان کی پوشیدہ تدبیریں جانتا ہے۔ نبی ﷺ کو ان کے پیچھے پڑ کر خود کو تھکانا نہیں؛ انہیں چھوڑ کر اللہ پر بھروسا کرنا ہے۔ ہماری زندگی میں بھی کبھی ناقابلِ اعتماد لوگ آتے ہیں۔ غصے یا بدگمانی میں گھلنے کے بجائے معاملہ اس اللہ کے سپرد کرو جو سب کچھ دیکھتا ہے اور بہترین کارساز ہے۔
آج اگر کوئی تمہیں مایوس کرے تو دل میں کہو: «میں اللہ پر بھروسا کرتا ہوں» اور آگے بڑھو۔
|