تَدَبُّر
یہ آیت ہمیں قرآن میں غور کرنے کی دعوت دیتی ہے تاکہ اس کا ربط دیکھ سکیں۔
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَۚ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِندِ غَيۡرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ ٱخۡتِلَٰفٗا كَثِيرٗا
کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔
قرآن, An-Nisa 4:82
آیت ایک سوال اٹھاتی ہے: وہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ یہ بتاتی ہے کہ اگر یہ کتاب اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتی تو اس میں بہت سے تضادات ملتے۔ مگر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ایسے تضادات نہیں؛ یہ اندرونی ربط اس کے الٰہی ماخذ کی نشانی ہے۔ ہم روزمرہ زندگی میں قرآن کو توجہ سے پڑھنے اور اس کی آیات پر غور کرنے کے لیے وقت نکال سکتے ہیں۔ اس سے اس کی سچائی پر ہمارا اعتماد بڑھتا اور ایمان کو بہتر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
آج قرآن کا ایک مختصر حصہ پڑھو اور اس کے اندرونی ربط پر غور کرو۔
|