تَثَبُّت
یہ آیت سکھاتی ہے کہ ہر خبر کی تحقیق کے بغیر اسے نہ پھیلاؤ۔
وَإِذَا جَآءَهُمۡ أَمۡرٞ مِّنَ ٱلۡأَمۡنِ أَوِ ٱلۡخَوۡفِ أَذَاعُواْ بِهِۦۖ وَلَوۡ رَدُّوهُ إِلَى ٱلرَّسُولِ وَإِلَىٰٓ أُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ ٱلَّذِينَ يَسۡتَنۢبِطُونَهُۥ مِنۡهُمۡۗ
اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو اسے مشہور کر دیتے ہیں، حالانکہ اگر اسے رسول اور اپنے میں سے اہل امر کی طرف لوٹاتے تو ان میں سے جو لوگ اس کی حقیقت نکال سکتے ہیں وہ اسے جان لیتے۔
قرآن, An-Nisa 4:83
آیت ایک مذموم عادت بیان کرتی ہے: اطمینان بخش یا تشویش ناک ہر خبر فوراً پھیلا دینا۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ خبر اہل علم کے پاس لے جائیں جو اسے پرکھ کر حقیقت معلوم کر سکیں۔ روزمرہ میں اس کا مطلب ہے خبر کا ماخذ جانچے بغیر شیئر کرنے کی خواہش کی مزاحمت۔ یوں ہم اپنے اردگرد الجھن یا بے چینی پھیلانے سے بچتے ہیں۔
آج کوئی معلومات بانٹنے سے پہلے اس کا ماخذ کسی قابل اعتماد شخص یا معتبر حوالے سے جانچ لو۔
|