عِزَّة
یہ آیت دین کا مذاق اڑانے والوں سے دور رہ کر اپنی عزت محفوظ رکھنے کا سبق دیتی ہے۔
فَلَا تَقۡعُدُواْ مَعَهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦٓ إِنَّكُمۡ إِذٗا مِّثۡلُهُمۡ
پس ان کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہو جائیں، ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو جاؤ گے۔
قرآن, An-Nisa 4:140
پچھلی آیت پوچھتی ہے کہ کیا طاقت کافروں کے پاس تلاش کی جاتی ہے؟ ساری طاقت اللہ ہی کی ہے۔ یہاں مرکزی آیت ایک عملی ہدایت دیتی ہے: جب اللہ کی آیتوں کا انکار اور مذاق اڑایا جائے تو ایسا کرنے والوں کے ساتھ اس وقت تک نہ بیٹھو جب تک وہ کسی اور موضوع پر بات نہ کریں، ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو جاؤ گے۔ یہ ہدایت ہمیں ایسے کلام میں شریک ہونے سے بچاتی ہے جو ہمارے ایمان کے خلاف ہو۔ روزمرہ زندگی میں اس کا مطلب ہے کہ دین کا مذاق اڑانے والی گفتگو میں، صرف موجود رہ کر بھی، شریک نہ ہونے کا انتخاب کرو۔
آج اگر دین کا مذاق سنو تو ادب سے وہاں سے چلے جاؤ یا موضوع بدل دو۔
|