اتِّبَاعُ الْهُدَى
یہ آیت ہمیں اندھی روایات کے بجائے وحی کو ترجیح دینے کی دعوت دیتی ہے۔
وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّسُولِ قَالُواْ حَسۡبُنَا مَا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ ءَابَآءَنَآۚ أَوَلَوۡ كَانَ ءَابَآؤُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ شَيۡـٔٗا وَلَا يَهۡتَدُونَ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو نازل کیا ہے اور رسول کی طرف آؤ تو کہتے ہیں کہ ہمیں وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ کیا اگرچہ ان کے باپ دادا کچھ نہ جانتے ہوں اور ہدایت یافتہ نہ ہوں؟
قرآن, Al-Ma'ida 5:104
آیت ان لوگوں کا ذکر کرتی ہے جو اپنے آباؤ اجداد کی پیروی کا بہانہ بنا کر وحی کی دعوت رد کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ واضح کرتی ہے کہ ان کے باپ دادا کچھ نہیں جانتے تھے اور ہدایت پر نہ تھے۔ یہ ہمیں اندھی تقلید کے بجائے حق تلاش کرنا سکھاتی ہے۔ ہم زندگی میں اکثر رسمیں اور خیالات بغیر سوال کیے ورثے میں لیتے ہیں۔ آیت ہمیں قرآن اور عقل کی روشنی میں انہیں پرکھنے اور عادت کے خلاف ہو تب بھی درست بات اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
آج ایسی عادت یا رائے چنو جو تم نے بغیر سوچے ورثے میں لی، اور دیکھو کہ وہ اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق ہے یا نہیں۔
|