بصائر
یہ آیت دکھاتی ہے کہ حق کو دیکھنا اور اس کی پیروی کرنا خود انسان کے فائدے میں ہے، جبکہ اس سے اندھا رہنا اسی کے لیے نقصان دہ ہے۔
قَدۡ جَآءَكُم بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمۡۖ فَمَنۡ أَبۡصَرَ فَلِنَفۡسِهِۦۖ وَمَنۡ عَمِيَ فَعَلَيۡهَا
تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس بصیرتیں آ چکی ہیں۔ پس جو دیکھے گا وہ اپنے ہی فائدے کے لیے دیکھے گا، اور جو اندھا رہے گا اس کا وبال اسی پر ہے۔
قرآن, Al-An'aam 6:104
اللہ نے ہمارے لیے واضح نشانیاں بھیجی ہیں جو راستے کو روشن کرنے والی روشنیوں کی مانند ہیں۔ صاف دیکھنے کا مطلب ان نشانیوں کو سمجھ کر ان کی پیروی کرنا ہے۔ اس انتخاب کا فائدہ خود انسان کو ہے، اللہ کو نہیں۔ ان سے اندھا رہنا انہیں نظرانداز کرنا ہے، اور نقصان بھی اسی شخص کو ہوتا ہے۔ ہماری روزمرہ زندگی میں ہمیں بار بار انتخاب کا سامنا ہوتا ہے۔ آیت ہمیں آنکھیں کھولنے، خود غور کرنے اور اپنے فیصلوں کی ذمہ داری اٹھانے کی دعوت دیتی ہے۔ کوئی ہماری جگہ نہیں دیکھ سکتا۔
آج اپنے اردگرد تخلیق کی کسی نشانی پر غور کرو اور ایسا فیصلہ لکھو جسے اس بصیرت سے روشن کرنا چاہتے ہو۔
|