مِيزَان
قیامت کے دن ہمارے اعمال پورے انصاف کے ساتھ تولے جائیں گے۔
وَٱلۡوَزۡنُ يَوۡمَئِذٍ ٱلۡحَقُّۚ فَمَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
اور اس دن وزن حق ہوگا، پھر جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی کامیاب ہوں گے۔
قرآن, Al-A'raf 7:8
یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ قیامت کے دن اعمال کا وزن انصاف سے ہوگا۔ کامیابی ان لوگوں سے وابستہ ہے جن کے پلڑے نیک اعمال سے بھاری ہوں گے۔ پچھلی آیت یاد دلاتی ہے کہ اللہ ہمارے ہر کام کو جانتا ہے، اور اگلی آیت بتاتی ہے کہ ہلکے پلڑے والے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالیں گے۔ یہ تصویر ہمیں آج ہی اپنا ترازو بھاری کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ ہر نیکی، چاہے چھوٹی ہو، شمار ہوتی ہے۔ ہم روزمرہ زندگی میں بھلائی اور تقویٰ کے کام بڑھا سکتے ہیں۔
آج کوئی مخلص نیکی کرو، مثلاً کسی کی مدد یا صدقہ، اور یاد رکھو کہ یہ تمہارا ترازو بھاری کرے گی۔
|