النُّصْح
یہ واقعہ پیغام کو امانت داری سے پہنچانے اور مخلص و قابلِ اعتماد نصیحت کو یکجا کرتا ہے۔
وَأَنَا۠ لَكُمۡ نَاصِحٌ أَمِينٌ
اور میں تمہارے لیے ایک امانت دار خیر خواہ ہوں۔
قرآن, Al-A'raf 7:68
رسول دو بنیادی خوبیاں جمع کرتے ہیں: اپنے رب کے پیغامات امانت سے پہنچاتے ہیں اور خود کو مخلص و قابلِ اعتماد خیر خواہ بتاتے ہیں۔ یوں اخلاص صرف الفاظ نہیں بلکہ دیانت دار کردار میں ظاہر ہوتا ہے۔ ہماری روزمرہ زندگی میں ہم دوسروں کو خیر خواہی سے، کسی پوشیدہ غرض کے بغیر، مشورہ دے کر اور اپنی بات کو قابلِ اعتماد رکھ کر یہ اخلاص دکھا سکتے ہیں۔
آج کسی کو مشورہ دینے سے پہلے خود سے پوچھو کہ تم مخلص اور قابلِ اعتماد ہو، پھر نرمی سے بات کہو۔
|