ٱسْتِعَانَة
یہ ہدایت اللہ سے مدد مانگنے اور صبر کرنے کا درس دیتی ہے؛ اچھا انجام متقیوں کے لیے ہے۔
ٱسۡتَعِينُواْ بِٱللَّهِ وَٱصۡبِرُوٓاْۖ إِنَّ ٱلۡأَرۡضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۖ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلۡمُتَّقِينَ
اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، بے شک زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بناتا ہے، اور انجام متقیوں کے لیے ہے۔
قرآن, Al-A'raf 7:128
موسیٰ اس آیت میں اپنی قوم کو یاد دلاتے ہیں کہ زمین اللہ کی ہے اور وہ جسے چاہے وارث بناتا ہے۔ فتح صرف طاقت پر نہیں بلکہ الٰہی ارادے پر منحصر ہے، اس لیے صبر اور اللہ پر بھروسا ضروری ہیں۔ جب مشکل بہت بڑی لگے تو ہم اللہ کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔ استعانت کا مطلب اس سے مدد مانگنا ہے۔ انتظار میں صبر کرتے ہیں۔ اچھا انجام ان کے لیے ہے جو اللہ سے ڈرتے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔
آج عمل سے پہلے کہو: “میں اللہ سے مدد مانگتا ہوں”، اور صبر کے لیے ایک گہری سانس لو۔
|