سمع
یہ آیت ہمیں محض الفاظ سننے سے آگے بڑھ کر دل سے سننے اور سنی ہوئی بات کو عمل میں بدلنے کی دعوت دیتی ہے۔
وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ قَالُواْ سَمِعۡنَا وَهُمۡ لَا يَسۡمَعُونَ
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا، حالانکہ وہ سنتے نہیں۔
قرآن, Al-Anfal 8:21
آیت «ہم نے سن لیا» کہنے اور حقیقت میں نہ سننے کو جمع کرتی ہے۔ یہ ایسے مخلصانہ سننے کی دعوت دیتی ہے جو دل کو چھوئے اور عمل میں ظاہر ہو۔ پچھلی آیت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیتی ہے، جبکہ اگلی آیت نہ سننے والوں کو بہرے گونگوں سے تشبیہ دیتی ہے جو عقل نہیں رکھتے۔ آج ہم بہت سی باتیں سنتے ہیں، مگر کیا ہم واقعی انہیں اپنی رہنمائی کرنے دیتے ہیں؟ اخلاص سے سننے کا مطلب ہے کہ پیغام ہمارے اندر اترے اور ہمارا رویہ بدل دے۔
آج کسی نصیحت پر «ہاں، میں نے سن لیا» کہنے سے پہلے ایک منٹ سوچو کہ اسے کیسے عمل میں لاؤ گے۔
|