البَغْي
یہ آیت بتاتی ہے کہ بعض لوگ نجات کے بعد ظلم کرنے لگتے ہیں اور یاد دلاتی ہے کہ ان کی زیادتی کا وبال انہی پر ہے۔
فَلَمَّآ أَنجَىٰهُمۡ إِذَا هُمۡ يَبۡغُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّۗ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَا بَغۡيُكُمۡ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمۖ
پھر جب وہ انہیں نجات دیتا ہے تو وہ زمین میں ناحق زیادتی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو! تمہاری زیادتی کا وبال تمہی پر ہے۔
قرآن, Yunus 10:23
آیت ایک خاص صورت بیان کرتی ہے: مصیبت میں گھرے لوگ اللہ کو پکارتے ہیں، نجات ملتے ہی زمین میں ظلم کرنے لگتے ہیں۔ یہ نہیں کہتی کہ وہ اللہ بھول گئے بلکہ زور دیتی ہے کہ ان کی زیادتی خود انہی کی طرف لوٹتی ہے۔ یہ کلام ہمیں سوچنے کی دعوت دیتا ہے: ظالمانہ اعمال بے نتیجہ نہیں ہوتے۔ وہ فوراً نظر نہ آئے تب بھی براہِ راست ہمیں متاثر کرتے ہیں۔ آج ہم اپنے معاملات میں انصاف سے عمل کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
آج ایسی صورت پہچانو جس میں تم ظلم کی طرف مائل ہو سکتے ہو، مثلاً دھوکا یا جھوٹ، اور شعوری طور پر انصاف چنو۔
|