مَثَل
یہ آیت یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی رونق عارضی ہے اور ہمیں اس سے حد سے زیادہ وابستہ ہوئے بغیر فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتی ہے۔
إِنَّمَا مَثَلُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا كَمَآءٍ أَنزَلۡنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ
دنیا کی زندگی کی مثال اس پانی جیسی ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا۔
قرآن, Yunus 10:24
آیت دنیا کی زندگی کو اس بارش سے تشبیہ دیتی ہے جو پودے اگاتی ہے۔ زمین سج جاتی ہے، مگر اللہ کا حکم آ کر انہیں اچانک کاٹ دیتا ہے گویا وہ کبھی تھے ہی نہیں۔ اسی طرح دنیا کی نعمتیں اور لذتیں عارضی ہیں۔ یہ تصویر ہمیں مادی چیزوں سے ضرورت سے زیادہ لگاؤ سے بچاتی ہے۔ ہم شکر کے ساتھ ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور یاد رکھ سکتے ہیں کہ ہمارا حقیقی گھر اللہ کے پاس ہے۔
آج کسی پودے یا منظر کو دیکھ کر اس کی فنا پر غور کرو، پھر اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔
|