دَعْوَة
یہ آیت بتاتی ہے کہ دعا قبول ہونے کے بعد بھی استقامت ضروری ہے تاکہ ہم سیدھی راہ نہ چھوڑیں۔
قَالَ قَدۡ أُجِيبَت دَّعۡوَتُكُمَا فَٱسۡتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَآنِّ سَبِيلَ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ
اس نے کہا: تم دونوں کی دعا قبول کر لی گئی، پس سیدھے راستے پر قائم رہو اور نادان لوگوں کی راہ نہ چلو۔
قرآن, Yunus 10:89
موسیٰ نے فرعون اور اس کے سرداروں کے خلاف دعا کی تھی۔ اللہ نے جواب دیا کہ دعا قبول ہو گئی ہے۔ پھر دونوں نبیوں کو سیدھا رہنے اور جاہلوں کی راہ نہ اپنانے کا حکم دیا۔ یہ جواب دکھاتا ہے کہ دعا سنی جاتی ہے۔ نماز اور دعا کے بعد راستی پر قائم رہنے کی یاد دہانی بھی ہے۔ آج ہم اپنی دعاؤں پر بھروسا کر کے اچھی راہ پر چلتے رہ سکتے ہیں۔
آج کسی مشکل کے لیے مخلص دعا کرو، پھر اس درخواست سے متعلق سیدھا عمل انجام دو۔
|