عِلْم
یہ ہدایت شک کے وقت پچھلی آسمانی کتابوں کے جاننے والوں سے پوچھنے اور حق اللہ کی طرف سے ہونے کا یقین سکھاتی ہے۔
فَإِن كُنتَ فِي شَكّٖ مِّمَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ فَسۡـَٔلِ ٱلَّذِينَ يَقۡرَءُونَ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكَۚ لَقَدۡ جَآءَكَ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُمۡتَرِينَ
پس اگر تمہیں اس میں شک ہو جو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تو ان لوگوں سے پوچھو جو تم سے پہلے کتاب پڑھتے تھے۔ یقیناً تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس حق آ چکا ہے، پس شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔
قرآن, Yunus 10:94
آیت نبی ﷺ سے خطاب کرتی ہے مگر ہمیں بھی مفید رویہ سکھاتی ہے: وحی پر شک ہو تو ان لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں جنہیں ہم سے پہلے کتابیں دی گئیں۔ اس سے علم اور مکالمے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ روزمرہ زندگی میں کوئی دینی سوال پریشان کرے تو اہلِ علم سے جواب تلاش کر سکتے ہیں۔ حق اللہ کی طرف سے ہے، اس لیے بے یقینی میں نہیں رہنا چاہیے۔
آج اپنے ایمان کے بارے میں سوال ہو تو کتابوں کا علم رکھنے والے قابلِ اعتماد شخص سے پوچھو یا معتبر ذریعے سے رجوع کرو۔
|