إِخْلَاص
نبی ہود دکھاتے ہیں کہ اخلاص کا مطلب صرف اللہ سے اجر طلب کرنا ہے۔
لَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًاۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱلَّذِي فَطَرَنِيٓ
میں تم سے اس پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، میری اجرت تو اسی کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔
قرآن, Hud 11:51
اس آیت میں ہود اپنی قوم سے مخاطب ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں صرف اللہ کی عبادت کی دعوت دینے پر کوئی اجرت نہیں چاہیے۔ ان کا اجر صرف اس اللہ کے پاس ہے جس نے انہیں پیدا کیا۔ یوں وہ اخلاص کو لوگوں کے بدلے کے بجائے الٰہی اجر کی امید سے جوڑتے ہیں۔ ہماری زندگی میں ہم دوسروں کی تعریف یا بدلے کے خواہش مند ہو سکتے ہیں۔ یہ آیت نیت پاک کر کے انسانی قدردانی کے بغیر اللہ کے لیے عمل کی دعوت دیتی ہے۔ یہ ہمیں آزاد اور اعمال کو زیادہ مخلص بناتی ہے۔
آج کسی کو بتائے بغیر ایک نیکی کرو اور یاد رکھو کہ صرف اللہ اسے دیکھتا اور اس کا اجر دیتا ہے۔
|