مُصۡلِحُونَ
یہ آیت دکھاتی ہے کہ اصلاح اور انصاف معاشروں کو ظالمانہ تباہی سے بچاتے ہیں۔
وَأَهۡلُهَا مُصۡلِحُونَ
اور اس کے رہنے والے اصلاح کرنے والے ہوں۔
قرآن, Hud 11:117
اللہ فرماتا ہے کہ وہ ان بستیوں کو ظلم سے تباہ نہیں کرتا جن کے رہنے والے اصلاح کرنے والے ہوں۔ اس لفظ سے مراد خیر کے لیے کام کرنے، معاشرے کو سنوارنے والے لوگ ہیں۔ پچھلی آیت بتاتی ہے کہ یہ لوگ کم مگر قیمتی ہیں کیونکہ فساد کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم اپنے آس پاس چھوٹے منصفانہ کاموں سے اصلاح کرنے والوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔ خیر، انصاف اور دیانت کو بڑھانے والا ہر قدم معاشرے کی اصلاح میں حصہ ڈالتا ہے۔
آج اپنے ماحول میں ناانصافی یا مسئلہ پہچانو اور اسے درست کرنے کے لیے سادہ قدم اٹھاؤ، مثلاً ضرورت مند کی مدد یا دیانت کی حوصلہ افزائی۔
|