صَبْر
یہ آیت دور اندیشی کی اہمیت سکھاتی ہے۔
ثُمَّ يَأۡتِي مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ سَبۡعٞ شِدَادٞ يَأۡكُلۡنَ مَا قَدَّمۡتُمۡ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلٗا مِّمَّا تُحۡصِنُونَ
پھر اس کے بعد سات سخت سال آئیں گے جو اس ذخیرے کو کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لیے جمع کیا ہوگا، سوائے تھوڑے سے جسے تم محفوظ رکھو گے۔
قرآن, Yusuf 12:48
اس حصے میں یوسف بتاتے ہیں کہ خوش حالی کے سات سالوں کے بعد سات مشکل سال آئیں گے۔ وہ ذخیرے کھا جائیں گے، سوائے اس تھوڑے کے جسے احتیاط سے محفوظ رکھا جائے۔ آیت دکھاتی ہے کہ دور اندیشی ایک قیمتی خوبی ہے جو مشکل وقت سے گزرنے میں مدد دیتی ہے۔ ہم اپنی زندگی میں اس اصول کو وسائل کا کچھ حصہ بچا کر، صحت کا خیال رکھ کر یا تعلقات نبھا کر لاگو کر سکتے ہیں۔ آج کی تیاری کل کی حفاظت ہے۔
آج مستقبل کی ضرورت کے لیے تھوڑی رقم یا کوئی مفید چیز الگ رکھو، چاہے علامتی ہی ہو۔
|