صِدْق
یہ آیت دکھاتی ہے کہ یوسف کے بھائیوں نے سچی بات سے اپنی عزت کا دفاع کیسے کیا۔
قَالُواْ تَٱللَّهِ لَقَدۡ عَلِمۡتُم مَّا جِئۡنَا لِنُفۡسِدَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا كُنَّا سَٰرِقِينَ
انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم جانتے ہو کہ ہم زمین میں فساد کرنے کے لیے نہیں آئے اور نہ ہم چور ہیں۔
قرآن, Yusuf 12:73
ناحق الزام لگنے پر یوسف کے بھائی اللہ کی قسم کھا کر اپنی بے گناہی بیان کرتے ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ وہ زمین میں فساد پھیلانے نہیں آئے اور چور نہیں ہیں۔ ان کا دفاع جھوٹ کے بجائے حقیقت پر قائم ہے۔ ہماری زندگی میں غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ حقائق کو بڑھا چڑھا کر یا بدل کر پیش کیے بغیر پرسکون اور سچائی سے جواب دینا ہماری عزت اور اعتماد کو محفوظ رکھتا ہے۔
اگر آج کوئی تمہیں ناانصافی سے ملامت کرے تو غصہ کیے بغیر سچے اور پرسکون جملے سے جواب دو۔
|