تَغْيِير النَّفْس
یہ آیت یاد دلاتی ہے کہ ہماری حالت تب ہی بدلتی ہے جب ہم اپنے اندر کی چیز بدلیں۔
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنفُسِهِمۡۗ
بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر کی حالت نہ بدلے۔
قرآن, Ar-Ra'd 13:11
اللہ فرماتا ہے کہ کسی جماعت کی تبدیلی اس کی اندرونی تبدیلی پر منحصر ہے۔ یہ کوئی ناگزیر تقدیر نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ فرشتے ہماری نگہبانی کرتے ہیں، مگر روحانی اور اخلاقی ترقی ہمارے ہاتھ میں ہے۔ روزمرہ میں ہمارے اعمال، خیالات اور نیتیں ہماری حقیقت بناتے ہیں۔ زندگی بہتر کرنا ہو تو دل اور رویے کی اصلاح سے آغاز کرنا ہوگا۔
آج ایک منفی عادت یا خیال پہچانو جسے مثبت چیز سے بدل سکتے ہو اور اسے عملی طور پر شروع کرو۔
|