الْحَقُّ وَالْبَاطِلُ
اللہ حق اور باطل کو اس جھاگ سے تشبیہ دیتا ہے جو مٹ جاتی ہے اور اس پانی سے جو باقی رہتا ہے۔
كَذَٰلِكَ يَضۡرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡحَقَّ وَٱلۡبَٰطِلَۚ فَأَمَّا ٱلزَّبَدُ فَيَذۡهَبُ جُفَآءٗۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ فَيَمۡكُثُ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ
اسی طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے، پھر جھاگ تو بے کار ہو کر چلا جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کو نفع دیتی ہے وہ زمین میں باقی رہتی ہے۔
قرآن, Ar-Ra'd 13:17
اس آیت میں اللہ بارش کا ذکر کرتا ہے جس سے وادیاں بہتی ہیں اور جھاگ کو ساتھ لے جاتی ہیں، مگر پانی باقی رہتا اور زمین کو فائدہ دیتا ہے۔ پگھلی ہوئی دھات بھی جھاگ پیدا کرتی ہے جو منتشر ہو جاتی ہے، جبکہ مفید چیزیں باقی رہتی ہیں۔ یوں اللہ حق کو پائیدار اور باطل کو مٹ جانے والی چیز سے جوڑتا ہے۔ ہماری زندگی میں سچی باتوں اور نیک اعمال کا اثر دیرپا ہوتا ہے، جبکہ جھوٹ اور ناانصافی آخرکار ختم ہو جاتے ہیں۔ اس مثال پر غور ہمیں مضبوط اور نفع بخش چیز اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
آج ایک ایسی سچی بات یا نیکی پہچانو جو تم کر سکتے ہو، چاہے چھوٹی ہو، اور اسے انجام دو۔
|