أُولُو الْأَلْبَابِ
یہ آیت سیکھی ہوئی بات پر غور کر کے حق دیکھنے اور اس کے مطابق عمل کی دعوت دیتی ہے۔
أَفَمَن يَعۡلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَ ٱلۡحَقُّ كَمَنۡ هُوَ أَعۡمَىٰٓۚ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ
بھلا جو شخص جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا وہ حق ہے، اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہو؟ نصیحت تو عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں۔
قرآن, Ar-Ra'd 13:19
آیت اس شخص کو مقابل رکھتی ہے جو قرآن کو حق جانتا ہے اور اس حقیقت سے اندھا رہتا ہے۔ یہ نہیں کہتی کہ سب نابینا برابر ہیں بلکہ علم سب کچھ بدل دیتا ہے۔ عقل والے غور کرتے اور سبق لیتے ہیں۔ ہم سیکھی ہوئی بات پر غور کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ غور حق دیکھنے اور اسی کے مطابق عمل میں مدد دیتا ہے۔ آج کسی نئی آیت یا خیال پر غور کے لیے ایک لمحہ نکالو۔
آج یہ آیت دو منٹ دوبارہ پڑھو اور غور سے بہتر سمجھی ہوئی ایک بات لکھو۔
|