الصَّبْرُ
یہ آیت ان لوگوں کو بیان کرتی ہے جو ثابت قدمی سے صبر کرتے ہوئے اللہ کی رضا چاہتے ہیں۔
وَٱلَّذِينَ صَبَرُواْ ٱبۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِمۡ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنفَقُواْ مِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ سِرّٗا وَعَلَانِيَةٗ
اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی رضا کی طلب میں صبر کیا، نماز قائم کی اور جو رزق ہم نے انہیں دیا اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کیا۔
قرآن, Ar-Ra'd 13:22
آیت تین رویوں کو جمع کرتی ہے: صبر، نماز اور سخاوت۔ یہاں صبر محض بے بسی نہیں بلکہ اللہ کو راضی کرنے کی نیت سے جڑا ہے۔ نماز دن کو ترتیب دیتی اور اصل بات یاد دلاتی ہے۔ چھپ کر اور علانیہ دینا دل کو پاک کرتا اور دوسروں کی مدد کرتا ہے۔ ہماری زندگی میں ہم سچی نیت قائم رکھ کر، وقت پر نماز پڑھ کر اور جو کچھ ہے بانٹ کر، چاہے کم ہو، یہ صبر پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ سادہ اعمال اللہ سے تعلق مضبوط اور روزمرہ کو پرسکون کرتے ہیں۔
آج نماز وقت پر ادا کرو اور اللہ کی رضا کے لیے چھپا کر تھوڑا صدقہ دو۔
|