البلاغ
یہ آیت نبی کو یاد دلاتی ہے کہ ان کا کام پیغام پہنچانا ہے، نتیجے کو قابو کرنا نہیں۔
فَإِنَّمَا عَلَيۡكَ ٱلۡبَلَٰغُ وَعَلَيۡنَا ٱلۡحِسَابُ
آپ پر صرف پہنچا دینا ہے اور حساب ہمارے ذمہ ہے۔
قرآن, Ar-Ra'd 13:40
اللہ نبی سے ان کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے خطاب کرتا ہے۔ لوگ ایمان لائیں یا نہ لائیں، عذاب آئے یا نہ آئے، ان کی ذمہ داری صرف پیغام کو واضح پہنچانا ہے۔ حساب اور بدلہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ سبق ہمیں آزاد کرتا ہے: جو جانتے ہیں اسے اخلاص سے بیان کریں، مگر دلوں کو قبول پر مجبور نہیں کر سکتے۔ ہمارا کام پہنچانا ہے، نتیجے کی ضمانت دینا نہیں۔
آج کسی سے ایک آیت یا مفید بات شیئر کرو، پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کر دو۔
|