كَلِمَة طَيِّبَة
اللہ پاکیزہ بات کو مضبوط جڑوں والے درخت سے تشبیہ دیتا ہے۔
كَلِمَةٗ طَيِّبَةٗ كَشَجَرَةٖ طَيِّبَةٍ أَصۡلُهَا ثَابِتٞ وَفَرۡعُهَا فِي ٱلسَّمَآءِ
ایک پاکیزہ بات کی مثال ایسے پاکیزہ درخت جیسی ہے جس کی جڑ مضبوط ہے اور شاخیں آسمان میں ہیں۔
قرآن, Ibrahim 14:24
یہ آیت پاکیزہ بات کی طاقت پر غور کی دعوت دیتی ہے۔ مضبوط درخت کی طرح وہ گہری جڑ پکڑتی اور آسمان کی طرف بلند ہوتی ہے۔ اگلی آیت کے مطابق وہ پھل بھی لاتی ہے۔ پاکیزہ بات عارضی نہیں بلکہ قائم اور زندہ رہتی ہے۔ ہم ہر روز باتیں کرتے ہیں؛ کچھ تعمیر کرتی ہیں اور کچھ دل دکھاتی ہیں۔ اچھی بات چننا ایسا درخت لگانے کے مانند ہے جس سے سب فائدہ اٹھائیں۔ سچی، نرم یا مفید بات کسی تعلق کو بدل سکتی یا کسی دل کو سکون دے سکتی ہے۔
آج بولنے سے پہلے خود سے پوچھو: کیا یہ اچھی بات ہے؟ پھر کسی کے ساتھ محبت بھری بات کرو۔
|