أُكُل
یہ آیت اچھی بات کو پھل دار درخت سے تشبیہ دیتی ہے۔
تُؤۡتِيٓ أُكُلَهَا كُلَّ حِينِۭ بِإِذۡنِ رَبِّهَا
وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے۔
قرآن, Ibrahim 14:25
اس مثال میں اچھی بات کو ایسے درخت سے تشبیہ دی گئی ہے جس کی جڑ مضبوط اور شاخیں بلند ہیں۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ یہ درخت اپنے رب کے اذن سے ہر وقت پھل دیتا ہے۔ یوں اچھی بات کبھی کبھار نہیں بلکہ مستقل اور فائدہ مند ہوتی ہے۔ ہماری باتیں بھی اس درخت جیسی ہو سکتی ہیں۔ ہر سچی بات، حوصلہ افزائی اور معافی ایسا پھل ہے جو ہم دوسروں کو دیتے ہیں۔ چھوٹی ملاقاتوں میں بھی اپنی گفتگو پر توجہ دے کر ہم اس خوبی کو پروان چڑھا سکتے ہیں۔
آج کم از کم ایک شخص سے فائدہ مند اور اچھی بات کرو، اور یاد رکھو کہ یہ اللہ کے فضل کا پھل ہے۔
|