كَلِمَة خَبِيثَة
بری بات کو اکھڑے ہوئے بے ثبات درخت سے تشبیہ دی گئی ہے۔
وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٖ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ ٱجۡتُثَّتۡ مِن فَوۡقِ ٱلۡأَرۡضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٖ
اور بری بات کی مثال اس برے درخت جیسی ہے جو زمین کے اوپر سے اکھاڑ دیا گیا ہو، اس کے لیے کوئی قرار نہیں۔
قرآن, Ibrahim 14:26
یہ آیت بری بات کو زمین سے اکھڑے ہوئے درخت سے تشبیہ دیتی ہے۔ اس درخت کی طرح اس کی نہ جڑ ہے نہ استحکام، اس لیے یہ پائیدار بھلائی نہیں پیدا کر سکتی۔ ہماری زندگی میں تکلیف دہ، جھوٹی یا بے فائدہ باتیں اسی درخت جیسی ہیں؛ وہ اچھا پھل نہیں دیتیں۔ اچھی اور مفید بات چننا ایسے مضبوط درخت لگانے کے مانند ہے جو غذا اور حفاظت دے۔
آج بولنے سے پہلے خود سے پوچھو: کیا یہ بات اچھی اور مفید ہے؟ اگر بے جڑ درخت جیسی ہو تو خاموشی یا اچھی بات چنو۔
|