بَلَاغ
یہ آیت یاد دلاتی ہے کہ ہمارا کام پیغام صاف پہنچانا ہے، دوسروں کے ردعمل سے وابستہ ہونا نہیں۔
فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّمَا عَلَيۡكَ ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ
اگر وہ منہ موڑیں تو تم پر صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے۔
قرآن, An-Nahl 16:82
اللہ نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ لوگ منہ موڑیں تو ان کی ذمہ داری صرف واضح پیغام پہنچانا ہے، جواب کی فکر نہیں۔ پچھلی آیت اللہ کی نعمتوں اور اگلی بہت لوگوں کے انکار کا ذکر کرتی ہے؛ یہاں نبی کو نتیجے کے بوجھ سے آزاد کیا گیا ہے۔ ہم بھی مشورہ یا یاد دہانی شیئر کر سکتے ہیں۔ دوسرا قبول نہ کرے تو یہ ناکامی نہیں۔ ہمارا فرض حق بات صاف اور نرمی سے کہنا اور آگے کا معاملہ اللہ پر چھوڑنا ہے۔
آج کسی کو مفید یاد دہانی دو اور اس کے قبول کرنے کی توقع نہ رکھو۔
|