شَاكِلَة
یہ آیت یاد دلاتی ہے کہ ہر شخص اپنے طریقے سے عمل کرتا ہے، مگر اللہ جانتا ہے کون زیادہ ہدایت یافتہ ہے۔
قُلۡ كُلّٞ يَعۡمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِۦ فَرَبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِمَنۡ هُوَ أَهۡدَىٰ سَبِيلٗا
کہہ دو: ہر شخص اپنے طریقے پر عمل کرتا ہے، پس تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون سب سے زیادہ سیدھی راہ پر ہے۔
قرآن, Al-Isra 17:84
آیت کہو سے شروع ہوتی ہے۔ بتاتی ہے کہ ہر شخص اپنی فطرت اور طریقے کے مطابق عمل کرتا ہے، کوئی بے طریقہ نہیں۔ پھر یاد دلاتی ہے کہ اللہ سب سے بہتر جانتا ہے کون زیادہ ہدایت پر ہے۔ اللہ کا یہ علم ہمیں اپنے طریقے پر سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ نہیں جانتے کون زیادہ ہدایت یافتہ ہے، مگر اپنے اعمال کو نیکی کی طرف موڑ سکتے ہیں۔ آیت دوسروں کو نہیں پرکھتی، اپنے راستے کو دیکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
آج عمل سے پہلے خود سے پوچھو: میرا طریقہ کیا ہے؟ پھر اچھی نیت دکھانے والا عمل چنو۔
|