أُوتُوا الْعِلْمَ
یہ آیت ان لوگوں کا حال بیان کرتی ہے جنہیں علم دیا گیا، جب وہ قرآن سنتے ہیں۔
إِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ مِن قَبۡلِهِۦٓ إِذَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّونَۤ لِلۡأَذۡقَانِۤ سُجَّدٗاۤ
بے شک جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا، جب ان کے سامنے یہ پڑھا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں۔
قرآن, Al-Isra 17:107
آیت ان لوگوں کا ذکر کرتی ہے جنہیں قرآن سے پہلے علم عطا کیا گیا تھا۔ جب ان کے سامنے یہ کتاب پڑھی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہیں۔ ان کا علم انہیں حق کو پہچاننے سے نہیں روکتا بلکہ اس کے سامنے جھکنے پر آمادہ کرتا ہے۔ آج ہم اس رویے کی پیروی کر سکتے ہیں۔ جب ہم قرآن پڑھیں یا سنیں تو ایک لمحہ رک کر اس کے پیغام پر غور کریں اور اپنے دل کو عاجز ہونے دیں۔ حقیقی علم تکبر نہیں بلکہ سپردگی پیدا کرتا ہے۔
آج قرآن کا ایک صفحہ پڑھنے سے پہلے ایک منٹ رک کر یاد کرو کہ حاصل کیا ہوا علم تمہیں اعتراف اور عاجزی کی طرف لے جائے۔
|