تِلَاوَةُ الْقُرْآنِ
یہ آیت نبی کو قرآن پڑھنے کی دعوت دیتی ہے، اور یہ دعوت ہمارے لیے بھی ہے۔
وَٱتۡلُ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلۡتَحَدٗا
اپنے رب کی کتاب میں سے جو تم پر وحی کی گئی ہے اسے پڑھو؛ اس کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں، اور اس کے سوا تمہیں کوئی پناہ گاہ نہ ملے گی۔
قرآن, Al-Kahf 18:27
آیت قرآن کو اسی طرح پڑھنے کا حکم دیتی ہے جیسے وہ نازل ہوا۔ یہ بتاتی ہے کہ اللہ کے کلمات کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ یہ محفوظ رہنا قرآن کو منفرد اختیار دیتا ہے۔ ہماری زندگی میں قرآن پڑھنا ہمیں اس محفوظ کلام سے جوڑتا ہے۔ بے یقینی کے سامنے یہ آیت یاد دلاتی ہے کہ حقیقی پناہ صرف اللہ دیتا ہے۔ روزانہ تلاوت سہارا بن سکتی ہے۔
آج قرآن کی چند آیات توجہ سے پڑھو اور ان کے معنی پر غور کرو۔
|