مَثَلُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا
یہ آیت ہمیں دنیاوی زندگی کی عارضی حقیقت پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا كَمَآءٍ أَنزَلۡنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخۡتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلۡأَرۡضِ فَأَصۡبَحَ هَشِيمٗا تَذۡرُوهُ ٱلرِّيَٰحُۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ مُّقۡتَدِرًا
اور ان کے لیے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کرو جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے اتارا، اس سے زمین کی نباتات گھنی ہوئیں، پھر وہ خشک چورا بن گئیں جسے ہوائیں اڑاتی ہیں۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
قرآن, Al-Kahf 18:45
اللہ دنیا کی زندگی کو اس بارش سے تشبیہ دیتا ہے جو سرسبز نباتات اگاتی ہے، پھر وہ خشک ہو کر بکھر جاتی ہیں۔ یہ تصویر دکھاتی ہے کہ دنیا کی لذتیں اور مال عارضی اور فنا ہونے والے ہیں۔ اس حقیقت کے سامنے ہمیں مادی چیزوں سے حد سے زیادہ وابستہ نہ ہونے کی دعوت ہے۔ ہم اس کے بجائے باقی رہنے والی چیزوں، یعنی نیک اعمال اور اللہ کی رضا کی تلاش، پر توجہ دے سکتے ہیں۔
آج کسی پسندیدہ مادی چیز کے بارے میں سوچو اور اپنے آپ سے پوچھو کہ اسے کسی باقی رہنے والے عمل، جیسے مدد یا نیکی، میں کیسے استعمال کر سکتے ہو۔
|