صَابِرًا
موسیٰ اللہ کی مدد سے صبر کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔
سَتَجِدُنِيٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ صَابِرٗا
تم مجھے، اگر اللہ نے چاہا، صبر کرنے والا پاؤ گے۔
قرآن, Al-Kahf 18:69
اس آیت میں موسیٰ اپنے سے زیادہ علم رکھنے والے شخص کے ساتھ صبر کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ وہ اپنی طاقت پر بھروسا نہیں کرتے بلکہ «اگر اللہ نے چاہا» کہہ کر اللہ پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر ایک نعمت ہے جسے مانگا اور پروان چڑھایا جاتا ہے۔ ہم بھی تعلیم، کام یا تعلقات میں اپنے عہد کے دوران صبر کا وعدہ کر سکتے ہیں۔ نیت کو اللہ سے جوڑنا اس بات کا عاجزانہ اعتراف ہے کہ وعدہ نبھانے کے لیے ہمیں اس کی مدد چاہیے۔
آج ایسی صورتِ حال چنو جہاں تم بے صبر ہوتے ہو اور دل میں کہو: «اللہ کی مدد سے میں صبر کروں گا۔»
|