الْحَسْرَةُ
یہ آیت ہمیں ایسے دن سے خبردار کرتی ہے جب پچھتاوا بہت بڑا ہوگا۔
وَأَنذِرۡهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡحَسۡرَةِ إِذۡ قُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ وَهُمۡ فِي غَفۡلَةٖ وَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ
اور انہیں حسرت کے دن سے ڈراؤ جب فیصلہ کر دیا جائے گا، حالاں کہ وہ غفلت میں ہوں گے اور ایمان نہیں لائیں گے۔
قرآن, Maryam 19:39
اللہ لوگوں کو یومِ حسرت سے ڈرانے کا حکم دیتا ہے، جب معاملہ طے ہو جائے گا۔ اس دن بعض لوگ غفلت اور بے ایمانی میں ہوں گے، جیسا کہ آیت بتاتی ہے۔ پچھلی آیت دکھاتی ہے کہ ظالم آج کھلی گمراہی میں ہیں، اور اگلی آیت یاد دلاتی ہے کہ سب کچھ اللہ کی طرف لوٹ جائے گا۔ یہ یاد دہانی ہمیں غافل زندگی نہ گزارنے کی دعوت دیتی ہے۔ ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں: کون سے اہم کام ہم مؤخر کر رہے ہیں؟ تیاری کا مطلب ہے کہ ابھی سے اخلاص کے ساتھ عمل کریں۔
ایک منٹ نکال کر وہ کام لکھو جسے تم ٹال رہے ہو اور اسے آج مکمل کرنے کا فیصلہ کرو۔
|