فَهْم
موسیٰ اللہ سے اپنی بات سمجھ میں آنے کی دعا کرتے ہیں۔
يَفۡقَهُواْ قَوۡلِي
تاکہ وہ میری بات سمجھیں۔
قرآن, Taa-Haa 20:28
موسیٰ اس آیت میں اپنی دعا جاری رکھتے ہیں: زبان کی گرہ کھولنے کے بعد چاہتے ہیں کہ ان کی بات سمجھی جائے۔ وہ صرف اچھی گفتگو نہیں بلکہ سامعین کے سننے اور سمجھنے کی درخواست کرتے ہیں۔ یہ درخواست ابلاغ میں وضاحت کی اہمیت دکھاتی ہے۔ ہم بھی گھر والوں، دوستوں یا ساتھیوں سے قابل فہم بات کے لیے اللہ سے مدد مانگ سکتے ہیں۔
آج کسی سے بات کرنے سے پہلے دل میں مختصر دعا کرو: «اے اللہ، میری بات سمجھ میں آنے والی بنا دے۔»
|