نِسْيَان
یہ آیت سکھاتی ہے کہ اللہ کی نشانیوں کو نظر انداز کرنے کا براہِ راست انجام ہوتا ہے۔
أَتَتۡكَ ءَايَٰتُنَا فَنَسِيتَهَاۖ وَكَذَٰلِكَ ٱلۡيَوۡمَ تُنسَىٰ
ہماری آیتیں تیرے پاس آئیں تو تو نے انہیں بھلا دیا، اور اسی طرح آج تو بھلا دیا جائے گا۔
قرآن, Taa-Haa 20:126
اس حصے میں اللہ اس شخص کو جواب دیتا ہے جو پوچھتا ہے کہ اسے نابینا کیوں اٹھایا گیا۔ جواب واضح ہے: اللہ کی نشانیاں اس کے پاس پہنچی تھیں مگر اس نے انہیں بھلا دیا۔ یہ بھول محض غفلت نہیں بلکہ الٰہی تعلیمات سے لاپروائی کی عکاسی کرتی ہے۔ اگلی آیت واضح کرتی ہے کہ مراد وہ ہے جو حد سے بڑھے اور اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان نہ لائے۔ لہٰذا یہاں بھول بے اعتنائی سے وابستہ ہے۔ ہمارے لیے یہ دعوت ہے کہ اللہ کی نشانیوں کی قدر پہچانیں اور انہیں معمولی نہ سمجھیں۔
آج اللہ کی کوئی نشانی، مثلاً سورج یا بارش، چنو اور اس کے کمال پر غور کرتے ہوئے ایک منٹ اسے دیکھو۔
|