مِيزَان
یہ آیت نیک اعمال جمع کر کے کامیابی کی امید رکھنے کی دعوت دیتی ہے۔
فَمَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
پس جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی کامیاب ہیں۔
قرآن, Al-Muminoon 23:102
آیت اس دن کا ذکر کرتی ہے جب اعمال تولے جائیں گے۔ جن کے پلڑے نیکیوں سے بھاری ہوں گے وہ کامیاب قرار پائیں گے۔ اگلی آیت بتاتی ہے کہ ہلکے پلڑوں والے اپنی جان کھو بیٹھے؛ یوں میزان کا بھاری ہونا کامیابی کی نشانی ہے۔ ہم ہر روز سادہ اعمال سے اپنا میزان بھاری کر سکتے ہیں: اچھی بات، مدد یا شکر کا ایک لمحہ۔ یہ اعمال چھوٹے ہوں تب بھی اہم ہیں اور اللہ کی رحمت کی امید بڑھاتے ہیں۔
آج کسی کو خلوص سے مسکرانے یا مدد کرنے جیسی ایک اضافی نیکی کرو، اور سوچو کہ اس سے تمہارا میزان بھاری ہوتا ہے۔
|