ظَنَّ الْخَيْرَ
یہ آیت بغیر ثبوت الزام کے سامنے درست ردعمل سکھاتی ہے۔
ظَنَّ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ بِأَنفُسِهِمۡ خَيۡرٗا وَقَالُواْ هَٰذَآ إِفۡكٞ مُّبِينٞ
جب تم نے یہ بات سنی تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے ایک دوسرے کے بارے میں نیک گمان کیوں نہ کیا اور کہا: یہ کھلا بہتان ہے؟
قرآن, An-Nur 24:12
اس آیت میں اللہ مومنوں کو متوجہ کرتا ہے: جب کوئی منفی بات پھیلے تو انہیں اچھا گمان کرنا اور اسے کھلا جھوٹ کہنا چاہیے۔ پچھلی آیت یاد دلاتی ہے کہ بہتان ایک گروہ کی طرف سے آیا، اور اگلی آیت ایسے الزام کے لیے چار گواہ کا مطالبہ کرتی ہے۔ یوں ثبوت نہ ہو تو اعتماد غالب آنا چاہیے۔ ہماری روزمرہ زندگی میں ہم دوسروں کے بارے میں باتیں سنتے ہیں۔ انہیں فوراً ماننے کے بجائے ہم حسنِ ظن رکھ سکتے اور غیر مصدقہ بات نہ پھیلا سکتے ہیں۔
آج اگر کسی کے بارے میں منفی بات سنو تو اچھا گمان رکھو اور کہو: «شاید یہ سچ نہ ہو۔»
|