تَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا
یہ آیت ہمیں اپنی باتوں کو معمولی سمجھنے کے رجحان سے خبردار کرتی ہے۔
وَتَحۡسَبُونَهُۥ هَيِّنٗا وَهُوَ عِندَ ٱللَّهِ عَظِيمٞ
اور تم اسے معمولی سمجھ رہے تھے حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑی بات تھی۔
قرآن, An-Nur 24:15
آیت یاد دلاتی ہے کہ ایک افواہ بغیر علم کے پھیلائی گئی۔ لوگوں نے اسے معمولی سمجھا، مگر اللہ کے نزدیک وہ سنگین تھی۔ آیت ہماری باتوں کو ہلکا سمجھنے اور اللہ کے ہاں ان کے حقیقی وزن کے درمیان فرق دکھاتی ہے۔ آج بھی ہم اکثر تحقیق کے بغیر بات دہراتے اور اسے بے اہمیت سمجھتے ہیں، حالانکہ اللہ ہر لفظ سے واقف ہے۔ بولنے سے پہلے ہم پوچھ سکتے ہیں: جو کہنے جا رہا ہوں کیا وہ سچ، مفید اور مہربان ہے؟
آج کوئی خبر شیئر کرنے سے پہلے اس کا ماخذ جانچ لو اور خود سے پوچھو کہ کیا یہ مفید اور سچی ہے۔
|